HomeNews08-01-2020 WEDNESDAY (FILE NO.2)

08-01-2020 WEDNESDAY (FILE NO.2)

08-01-2020 WEDNESDAY (FILE NO.2)

خبرنامہ نمبر78/2020
کوئٹہ07جنوری:۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ضلع قلعہ عبداللہ، ضلع پشین اور ضلع کوئٹہ کو مزید اضلاع میں تقسیم کرنے اور کوئٹہ ڈویژن کی تقسیم کے تحت علیحدہ ڈویژن کے قیام کی تجویز کا جائزہ لیا گیا، کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اجلاس کو تجویز پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی، صوبائی مشیر ملک نعیم بازئی، پارلیمانی سیکریٹری بشریٰ رند، اراکین صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی اور شاہینہ کاکڑ، چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری قانون اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں پشین اور قلعہ عبداللہ کے آبادی اور رقبہ کی بنیاد پر نئے اضلاع کی تشکیل سے اتفاق کرتے ہوئے کمیٹی تشکیل دی گئی جو نئے اضلاع کے قیام کے لئے تمام عوامل کا جائزہ لے کر پندرہ دن کے اندر رپورٹ پیش کرے گی اور کمیٹی کی رپورٹ کے جائزہ کے لئے اجلاس منعقد کرکے نئے اضلاع کے قیام کی حتمی منظوری دی جائے گی، اجلاس میں کوئٹہ ضلع کو تقسیم کرکے مزید اضلاع کے قیام اور کوئٹہ ڈویژن کی تقسیم سے متعلق امور کے جائزہ کے لئے کوئٹہ ڈویژن کے اراکین صوبائی وقومی اسمبلی، سینئر ایم بی آر، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات، سیکریٹری خزانہ اور کمشنر کوئٹہ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی، وزیراعلیٰ نے ضلع کوئٹہ میں مزید دو نئی ریونیو تحصیلوں اور دو سب ڈویژنوں کے قیام کے لئے بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ارسال کی گئی سمری سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی منظوری دے دی جائے گی، وزیراعلیٰ بلوچستان نے سینیئر ممبر بورڈ ریونیو کو صوبہ بھر میں آبادی، رقبے اور دستیاب سہولتوں کے عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق نئی تحصیلوں اور اضلاع کے قیام کا جائزہ لینے کے لئے سٹیرنگ کمیٹی کے قیام کی ہدایت کی جو ڈویژنل کمشنر کے اشتراک سے ایک جامع ڈیٹابیس تیار کرے گی، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی سے کبھی بھی مستقبل کے تقاضوں کے مطابق منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور وقتی طور پر مسائل کو حل کیا گیا جس کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا، دیہی علاقوں میں سہولیات کے فقدان سے شہری علاقوں میں آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بھی سہولیا ت کم ہورہی ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک اور صوبے کو آگے بڑھانے کے لئے طرز فکر اور طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہوگا، اتھارٹی اور کمیٹیوں کا قیام یقینا مسائل کا حل نہیں، اگر ادارے ٹھیک کام کریں تو کمیٹیاں بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑے، انہوں نے کہا کہ سی پیک اور سرحدی مقامات پر ٹریڈ سینٹروں کے قیام سے ان علاقوں کی آبادی میں بھی اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان نے ہمیشہ غریب اور پسماندہ نہیں رہنا اور نہ ہی یہ ہمارا مقد ر ہے، صحیح منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کے بہترین استعمال سے بلوچستان کو دولتمند، خوشحال اور ترقیافتہ بنایا جاسکتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئی تحصیلوں، اضلاع اور ڈویژنوں کے قیام سے مالی اور انتظامی امور کی انجام دہی میں بہتری آئے گی اور عوام کو تعلیم، صحت اور شہری سہولتیں ان کے علاقوں میں دستیاب ہوسکیں گی۔
()()()

Share With:
Rate This Article

bk@gmail.com

No Comments

Leave A Comment