خبرنامہ نمبر3368/2018 
کوئٹہ 06دسمبر :۔گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہاکہ بلا شک وشبہ کرپشن ایک معاشی قتل اور دہشت گردی ہی کی ایک قسم ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ توکوئی ملک ترقی کی منازل طے کرسکتا او رنہ ہی عوام کو ان کے حقوق پہنچا ئے جا سکتے ہیں ۔ضروری ہے کہ ہم سب ملکر اس ناسور کے خلاف جنگ لڑیں ورنہ بد عنوانی کاروناسالوں سال روتے ر ہیں گے اور ترقی کے ثمرات سے محروم رہیں گے ۔ان خیالات کااظہار انہوں انسداد بد عنوانی کے دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمینارکے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ آج کے طلباء کی صحیح خطو ط پر رہنمائی اور بدعنوانی کے خلاف ذہن سازی نہ صرف آئندہ آنے والی نسلوں کی اصلاح کا ذریعہ بنے گی بلکہ طلباء کے مابین بد عنوانی کے تدارک کیلئے مضمون نو یسی ،تقا ریر ،خطا طی اوردیگر مقابلے معاشرے کی درست سمت تعین کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بد عنوانی کا زہر ہمارے معاشرے میں اس قدرسراہیت کر چکا ہے کہ ہم غلط اور صحیح کی پہچان بھول چکے ہیں ۔بد قسمتی سے بدعنوانی ، رشوت ستانی ، اقرباء پروری اور اختیارات کے نا جا ئزاستعمال کو حق سمجھ کرکیا جارہاہے ۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ معاشرے کی فلاح وبہبود اور تعمیرو ترقی اداروں کے استحکام سے مر بوط ہیں جہاں ادارے مضبوط ہونگے وہاں قانون کی پاسداری اور خوشحالی کے مواقع میسر ہو نگے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکو مت اداروں کے استحکام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی بھرپور کو شش کررہی ہے ،حکومت اورنیب کی کاو شوں سے بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو قوانین ضوابطہ کے مطابق ڈھالاجارہاہے جس سے قومی وسائل کے صحیح استعمال کو یقینی بناتے ہوئے صوبے میں ترقی کی راہ ہموار ہوگی ۔ قبل ازیں ڈائر یکٹر جنرل قومی احتساب بیو رومحمد عابدجاوید اورڈاکٹر عطاء الرحمن نے بھی سیمینار کے شرکاء سے خطاب کیا ۔آخر میں گو رنر بلوچستان نے منتظمین اور طلبہ میں اسناد اور یادگار ی شیلڈتقسیم کئے۔
()()()
خبرنامہ نمبر3369/2018 
کوئٹہ06 دسمبر۔ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ بلوچستان کے 80فیصد لوگ زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں صوبائی وزیر زراعت و کو آپریٹو انجینئر زمرک خان اچکزئی کا ڈائریکٹوریٹ جنرل زرعی تحقیق کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر یو ایس ایڈ ( USAID) اور سمٹ کے اشتراک سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت میں جدید اور نئی ٹیکنالوجی جس میں جدید لیز ٹیکنالوجی ، ڈرپ ایریگیشن ٹنل فارجنگ کو متعارف کرانا وقت کا تقاضا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے فصلوں کی افزائش کی ضر ورت ہے جوکہ پانی کی دستیابی میں بھی پھل پھول سکے اسکے ساتھ انہوں نے نئی عمارت کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا تقریب میں موجود رکن صوبائی اسمبلی نصیر شاہوانی نے زراعت کے شعبے میں ہونے والی خاطر خواہ ترقی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس ضمن میں مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر صوبائی سیکریٹری زراعت خلیق نذر کیانی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت زراعت کے شعبے مین سنجیدہ کام کرنا چاہتی ہے اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زرعی تحقیق بلوچستان جاوید ترین کا کہنا تھا کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر زرعی تحقیقی شعبے میں خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں گے ۔ تقریب میں مدعو کیئے گئے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف ظفر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے زمیندار وں کی ترجیحی بنیادوں پر ٹریننگ جاری ہے ۔ پروگرام کے پہلے فیز میں 120 زمینداروں کو ٹریننگ دی گئی اور اب دوسرے فیز میں بھی اس پر خاطر خواہ کام کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لائیواسٹاک غلام حسین جعفر نے زراعت و لائیو اسٹاک کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزم قرار دیا ۔ اس موقع پر موجود سمٹ کے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر امتیاز محمد بلوچستان میں خاص طور پر مکئی اور گندم کی کاشت کاری پر زور دیا تقریب کے اختتام پر زمیندار وں اور زرعی محققین سیر حاصل بحث و مباحثہ ہوئے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر3370/2018 
کوئٹہ 06دسمبر ۔ صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی سے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی دنیش کمار اور مکھی شام لعل کے قیادت میں وفد نے ملاقات کی اس موقع پر مشیر تعلیم نے کہا کہ غیر مسلم اقلیتوں کیلئے مختص 5% فی صدملازمت کے کوٹہ پر فوری عمل درآمد کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کے مضمون کے لئے بہت جلد اساتذہ کی بھرتی عمل میں لائی جائے گی تاکہ غیر مسلم اقلیتوں کے محرومیوں کا ازالہ ہو سکے اور اس ملک کے مفید شہری بن سکیں اور طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ صوبائی مشیر تعلیم نے انہیں یقین دلایا کہ غیر مسلم اقلیتوں کیلئے 5 فیصد ملازمت کے کوٹہ پر جلد عمل درآمد کیا جائے گا اور غیر مسلم اکثریتی اضلاع میں تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کے مضمون کے لیے اساتذہ کی بھرتی کا عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اقلیتی برادری کے درد کا احساس ہے اور اس کا بہت جلد ازالہ کیا جائے گا اس موقع پر اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی دنیش کمار اور مکھی شام لعل نے اقلیتی امور و مسائل میں زیادتی دلچسپی لینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ صوبائج مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی اسی طرح اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کیلئے ذاتی دلچسپی لیتے رہیں گے۔
()()()
خبرنامہ نمبر3371/2018 
کوئٹہ 06دسمبر ۔ صوبائی سیکریٹری تعلیم و سکولز محمد طیب لہڑی کے زیرصدارت اعلی سطح اجلاس ہوا اجلاس میں ضلع کوئٹہ کے 179 غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ڈیویلپمنٹ جہانگیر خان ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم صلاح الدین نورزئی ایڈیشنل ڈائریکٹر منیر احمد نودازئی ڈپٹی فوکل پرسن محمد فاروق اسفندیار بادینی اور محکمہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے اور یہ تہیہ کیے رکھا ہے کہ تدریسی عمل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر بعض غیر حاضر اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں غیر حاضری کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں پورے صوبے کے ڈی ای او صاحبان اور ڈپٹی کمشنرصاحبان کو مطلع کیا گیا ہے کہ وہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے اسکولوں کے اچانک دوروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔جن اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں ان میں ایس ایس ٹی سائنس کے شاہد شہزاد، عدنان صفدر، مظہر یاسین، محمد صدیق، شاہد احمد، سید رحمت اللہ،عائشہ اللہ یار،زاہد حسین، محمد شہزاد، شوکت احمد، ارباب نور نواز کاسی، نثار احمد ایس ایس ٹی جنرل میں دنیت کمار، نشاط وحید، شاہد حسین، محمد قاسم خان، زرین زمان، کرن زمان، تنویر اجمل، عابدہ کوکب،رفیع ڈار اور نجم سلیمان جبکہ ایسے ایس ٹی اساتذہ میں ونود کمار، عمران اقبال، رازمحمد، ذاکر خان، محمد یونس اور احمد خان شامل ہیں۔ مذکورہ اساتذہ کو 7 دنوں میں اظہار وجود جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے والدین اور کمیونٹی سے اس سلسلے میں معاونت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی عدم دلچسپی اور غیرحاضری سے بچوں کا مستقبل تباہ ہوتا ہے موجودہ حکومت غیر سنجیدہ اساتذہ کو ہر گز برداشت نہیں کرے گی اور نہ ہی کسی کو تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت دی جائیگی۔ انہوں نے طلباء پر بھی زور دیا کہ وہ تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی سے حصہ لیں اور اپنے مسائل سے اپنے اداروں کو آگاہ کریں اور اگر شنوائی نہ ہو تو متعلقہ حکام کے نوٹس میں ضرور لائیں۔ 
()()()

خبرنامہ نمبر3372/2018 
کوئٹہ 06دسمبر:۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن محمد ہاشم غلزئی نے کہا ہے کہ پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے باہمی اشتراک اورتعاون سے اقدامات اٹھائیں ،کوئٹہ بلاک میں پولیو کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے معاشرے کے تمام اکائیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے اور پولیو کے قطروں سے انکاری افراد کو قائل کرنے کیلئے علماء کرام،معتبرین اور مشران کی مدد حاصل کرکے پولیو مہم کو کامیاب بنائیں ۔پولیو کے حوالے سے احساس یونین کونسلوں پر فوری توجہ دیتے ہوئے ٹیموں کی کارکردگی کو بہتر اورکوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈویژنل ٹارسک فورس کے اجلاس پر پولیو کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ کے موقع پر شرکاء سے کیا۔اجلاس میں ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر) طاہر ظفر عباسی ،ڈپٹی کمشنر پشین ا ورنگزیب بادینی ،ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ شفقت انور شاہوانی اور انچارج ڈویژنل ٹاسک فورس ڈاکٹر سمیع اللہ کے علاوہ عالمی ادارہ صحت، یونیسف، رویٹری اور دیگر متعلقہ اداروں کے آفسران اور نمائندے بھی موجود تھے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہاکہ پولیو کے خاتمے کے لئے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں اور یونین کونسل کی سطح پر موثراقدامات کرنے سے تمام بچوں تک حفاظتی قطروں کی باآسانی رسائی ممکن ہوگی۔ٹیموں کی تربیت اور مانٹیرنگ کے نظام کو موثر بنانے کے سلسلے میں خصوصی انتظامات کئے جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہاکہ سرحدی علاقوں میں بچوں کی نقل وحمل پر نظر رکھتے ہوئے ٹیموں کی موجودگی کو یقینی بنائی جائے تاکہ پولیو کے باآسانی منتقلی کو روکا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ٹیموں اور متعلقہ اداروں کی حفاظت کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی اشتراک اورتعاون سے سخت انتظامات کررہے ہیں۔جبکہ تمام بچوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ دوران مہم قطرے پلانے سے رہ جانے والے بچوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں قطرے پلائیں جائیں تاکہ وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ آنے والی مہم میں ٹیموں کی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے تمام حائل رکاوٹوں کاخاتمہ کیا جائے تاکہ تمام بچوں تک حفاظتی قطروں کی رسائی ممکن ہونے کے علاوہ ٹیموں کی نگرانی کے لئے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بناتے ہوئے مہم کو کامیاب بنایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ حساس یونین کونسلوں میں پولیو کے پھیلنے کا خطرہ ہے ان پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ اپنے علاقوں کو پولیو وائرس سے مکمل پاک کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری کوششوں سے ہی پولیو کے وائرس کاخاتمہ ممکن ہے اس لئے اپنے مستقبل کے معماروں کے تحفظ کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑ ینگے ۔ 
()()()
پریس ریلیز 
کوئٹہ 06دسمبر۔ٹرانسپورٹر حاجی سیف الدین تارن انتقال کر گئے ۔ مرحوم حاجی محمد ین تارن کے بھائی حاجی حبیب اللہ تارن ، ڈپٹی ڈائریکٹرایف آئی اے ( ریٹائرڈ) حمید شاہ تارن ، ہمایوں شاہ تارن کے چچا زاد ،عبدالرحمن تارن ایڈیشنل سیکریٹری بلوچستان اسمبلی ،حاجی عتیق الرحمن تارن ٹیچر، ڈاکٹر عزیز الرحمن تارن ، سردار احمد خان تارن ، قاری نقیب اللہ تارن ، نصیب اللہ تارن ، ہدایت اللہ تارن کے چچا اور حاجی عبدالفتاح سپرنٹنڈنٹ محکمہ پولیس ، حاجی عبدالمالک خزانہ آفیسر پشین کے برادر نسبتی تھے ان کی فاتحہ خوانی حضرت بلال مسجد کلی مچان وارڈ نمبر /10پشین میں جاری ہے۔ 
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment