خبرنامہ نمبر 31/2019
کوئٹہ 04جنوری :۔ سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ ڈویژن حبیب اللہ خان کی زیر صدارت قومی شاہراہوں پر حادثات کے روک تھام کے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایس پی موٹر وے پولیس کوئٹہ قلات اختر اچکزی ،ڈی ایس پی یاسر دوتانی ،سپریٹنڈنٹ آر ٹی اے حمید اللہ محمد حسنی کے علاوہ دیگر متعلقہ آفسران بھی موجود تھے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی شاہراہوں پر حادثات کی روک تھام ،آور لوڈنگ ، آور سپیڈنگ اور اضافی لائٹس اتارنے کیلئے موٹر وے پولیس کے ہمراہ مشترکہ کاروائیاں عمل میں لائی جائیں گئی ۔اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ میں تیل لانے والی گاڑیوں کیخلاف بھی کریک ڈاؤن کیے جاہیں گئے ۔حادثات اور تیز رفتاری کی روک تھام کے سلسلے میں موٹر وے پولیس تمام قومی شاہراہوں کی نگرانی کر رہی ہے اگر کوئی بھی رفتار کی مقرر کردہ حد کو تجاوز کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اس کا بروقت بھاری چالان کیا جائے گا۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں تیل کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عائدہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کر تے ہوئے پایا گیاتو متعلقہ گاڑی مالک کیخلاف قانوی چارہ جوئی عمل میں لائی جائی گئی ۔اجلاس میں سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کئے جارہے ہیں اوراسی کے تسلسل میں آور لوڈنگ ،آور سپیڈنگ اور اضافی لائٹیں لگانے والی گاڑیوں کیخلاف آئے دن سخت کاروائیاں کئی جارہی ہیں ۔
()()()
خبرنامہ نمبر32/2019
گوادر 04 جنوری :۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیفنڈنگ سے این آر ایس پی کے زیر اہتمام قومی سماجی و معاشی خوشحالی گھر گھر سروے اعدادو شمار کے اندار ج کیلئے ایک ورکشاپ منعقد ہوا ورکشاپ میں ضلعی افسران اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ورکشاپ سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈویڑن ڈائریکٹر غلام شاہ قحطانی ،این آر ایس پی کے محمد بزدار اور غلام رسول نے کہا کہ ضلع گوادر میں BISP کے توسط سے قومی خوشحالی سروے منعقد ہورہا ہے یہ سروے اب عرصہ سات سال کے دوران بدلتے ہوئے اقتصادی اور سماجی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان اس سروے کو این آ رایس پی کے ذریعے منعقد کر رہی ہے تاکہ گھرانوں کے تبدیل ہونے والے مالی ،سماجی اور اقتصادی حالات کو صحیح اور مکمل طریقے سے دوبارہ درج کیا جا سکے۔اس سروے سے حاصل شدہ معلومات حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومتوں کی منصوبہ سازی برائے صحت، تعلیم ، خوراک اور دیگر انفرادی اور اجتماعی منصوبوں کو تشکیل دینے میں استعمال ہونگیں اورکشاپ میں شرکا کوبتایا گیاکہ اس سروے کو منعقد کرنے کے لئے آرایس پی نے مختلف تکنیکی اِدروں کو اپنا شراکت دار بنایا ہے۔ جنکا عملہ گھر گھر جا کراعدادو شمار اکٹھا کرے گا۔ اس سروے کے دوران معلومات اکٹھی کرنے کے لئے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے اسے CAPI یعنی کمپوٹر (ٹیبلٹ) کی مدد سے معلومات کا اندراج کرناکہتے ہیں۔ قومی خوشحالی سروے مطلوبہ شہر، قصبہ، گاؤں یا بستی میں رہنے والے تمام گھرانوں کے لئے ہے۔ یہ نہ صرف غریب لوگوں کی شناخت کے لئے ہے بلکہ تمام طبقہ ء فکر اور ہر طرح کی مالی حیثیت رکھنے والے لوگوں کے لئے ہے۔یہ بات ذہن نشین ہے کہ کسی بھی گھرانے کا ایک سے زیادہ دفعہ سروے میں اندراج کروانے سے اس گھرانے کو کوئی اضافی فائدہ نہیں ہو گاالبتہ نقصان ہو سکتاہے۔اسی طرح سروے ٹیم کو غلط معلومات فراہم کرنے سے تمام اندراج غلط تصور کیا جا سکتا ہے۔ گھرانے کے فرد کے پاس درست معلومات کی فراہمی کے لئے گھر کے تمام بالغ افراد کے شناختی کارڈز کی کاپیاں، بچوں کے ’ب’ فارم (اگر ممکن ہو) ، ان کے نام، ملازمت اورصحت وتعلیم کی تفصیلات کے علاوہ اثاثہ جات کی معلومات کا ہونا بہتر ہے۔ورکشاپ میں مختلف طبقے کے افراد این آرایس پی کے اہلکاروں کیساتھ ہے ہر مکمن تعاون کریں تاکہ قومی خوشحالی سروے پروگرام احسن طریقے سے انجام پائیں۔
()()()
خبرنامہ نمبر33/2019 
کوئٹہ 04جنوری :۔صوبائی وزیر خزانہ محمد عارف محمد حسنی نے سے صوبائی وزیر لوکل گورنمنٹ سردار سالح بھوتانی اورسیکرٹری لوکل گو رنمنٹ کمبر دشتی نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کو درپیش مسائل اور مشکلات اور چیلینجو ں سے نبر دآزما ہونے کیلئے باہمی مشاورت کے زریعے سیا ہی ، معاشی ،سماجی اور اقتعادی اصلاحات سے صوبے کو ترقی او رخو شحالی کی شاہراہ پر گامزان کرنے کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔دونوں رہنما وں نے مزید کہا کہ کسی بھی معاشرے میں استحکام کیلئے ضروری ہے کہ امن وامان کے زریعے بھائی چارے کی فضاء کو فروغ دیاجائے تاکہ عوام کی ترقی کیلئے عملی جدوجہد کر سکیں ۔ا س موقع پر لوکل گورنمنٹ ، کا رپوریشن اور مو نسپل کمیٹیوں کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث آئے ۔
()()()
خبرنامہ نمبر34/2019 
نصیر آباد 04جنوری :۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد قربان علی مگسی نے کہاہے کہ پولیو کے خاتمے کیلئے جہادکے طورپرسب کو اجتماعی پرجدوجہد کرنا ہو گا کیونکہ یہ ایک موذی اور خطرناک مرض ہے جس سے بچے زندگی بھر کیلئے اپاہج ہوسکتے ہیں حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے اس موذی کے خاتمے کئے بغیر صحت مندمعاشرہ تشکیل نہیں پاسکتا مستقبل کے معموروں کو بچانے کیلئے اس وائرس خلاف والدین سمیت تمام مکتبہ فکرکے افرادکو آگے آنا ہوگا پوری دنیا میں ہو وائرس ختم کیا چکا ہے مگر پاکستان سمیت چند ایک ملکوں میں یہ وائرس اب بھی خطرے کا باعث بنا ہواہے پولیو کے مرض کو پاکستان سے ختم کرنے کیلئے ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ پولیو کے قطرے ہربچے کو ہربارپلائیں تاکہ اپنے ملک کی نئی نسل کو ایسے موذی مرض سے بچایاجاسکے پولیوانسدادمہم میں آفیسران سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادکو اپنااپناکرداراداکرنا ہوگا تاکہ اس موضی مرض کا مکمل خاتمہ ہو پولیو مہم میں غفلت برتنے والے آفیسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی بچے ہمارے مستقبل کے ضامن ہیں ان کی پرورش اورمستقل صحت یابی سے بہتر ین معاشرہ تشکیل پاتا ہے ان خیالات کا ظہار انہوں نے انسدادپولیومہم کے سلسلے میں ضلع آفسیران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر غلام حسین بھنگر،ڈی ایچ اوڈاکٹرعبدالمنان لاکٹی،ایم ایس ڈاکٹرایازحسین جمالی،ڈاکٹر منظوراحمد ابڑو ڈاکٹرعبدالغفارسولنگی ڈبلیوایچ او کے نمائندوں سمیت دیگر ضلعی آفسیران نے کثیرتعدادمیں شرکت کی اجلاس میں ڈی ایچ اوہیلتھ عبدالمنان لاکٹی نے بتایا کہ پولیومہم کے سلسلے میں کئے گئے اقدامات اورمشکلات سے متعلق ڈپٹی کمشنر کو آگا ہ کیا تین روزہ پولیومہم 21 سے 24 جنوری کے دوران ایک لاکھ پنتالیس ہزار دو اڑسٹھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جس کیلئے 433ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جس میں موبائل ٹیمیں 367،ٹرانزٹ پوائٹ 30،جبکہ فکسڈسینٹرقائم کئے گئے ہیں انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیوٹیموں کے ساتھ بھرپورتعاون کو یقینی بنائیں تاکہ مہلک مرض کو جڑسے ختم کیا جاسکے اورضلع نصیرآباد کو پولیو کے مرض سے پاک کیاجاسکے۔
()()()
خبرنامہ نمبر35/2019 
کوئٹہ4جنوری :۔ صوبائی وزیر پی ایچ ای/واسا حاجی نور محمد دمڑ کی زیر صدارت واسا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا جس میں میئر کوئٹہ سٹی ڈاکٹر کلیم اللہ خان سیکرٹری پی ایچ ای عبدالفتح بھنگر‘ سیکرٹری قانون عبدالرحمان بزدار ‘ سیکرٹری خزانہ نور الامین مینگل‘ ڈپٹی میئر یونس بلوچ ‘ ایم ڈی واسا مجیب الرحمان قمبرانی‘ڈی جی کیو ڈی اے محمد طارق اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا ماحول اور کائنات کی خوبصورتی میں پانی کا اہم کردار ہے ہم سب کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ باران رحمت ہم پر برسائے تاکہ یہ طویل خشک سالی ختم ہو سکے اور پانی کی قلت پر پابو پایا جا سکے انہوں نے کہا کہ واسا کے اہلکاروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کوئٹہ کے لوگوں کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے دن رات کوشاں رہیں پانی انسان کی زندگی کی اشد ضرورت ہے اس میں کسی کی کوتاہی سے عوام پر براہ راست اثر پڑتا ہے پانی کی فراہمی میں واسا کے تمام اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی صوبائی وزیر نے اس ضمن میں کہا کہ واسا غیر قانونی کنکشن منقطع کرے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے لوگوں کے پانی کی قلت کو مد نظر رکھ کر قانونی طور پر کنکشن لگائے جائیں واسا اپنا ریونیوبڑھانے کیلئے لوگوں سے ریکوری کو بہتر کرے تاکہ واسا اپنے پاؤں پر کھڑاہوکر اپنی مالی ضروریات خود پوری کرے قبل ازیں ایم ڈی واسا مجیب الرحمان قمبرانی نے صوبائی وزیر پی ایچ ای /واسا اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دیگر ممبران کو محکمانہ بریفنگ دی تمام اراکین نے واسا کی کار کر دگی کو بہتر بنانے کیلئے اپنی اپنی تجاویز دیں اور کہا کہ عوام کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کیلئے مثبت پالیسیوں اور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ واسا کی کار کر دگی کو بہتر بنانے کیلئے تین ماہ میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس منعقد کیاجائیگا تاکہ معاملات کو احسن انداز میں چلایاجاسکے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں محکمہ کی بہتری کیلئے 14نکات کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی ۔
()()()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment