خبرنامہ نمبر1555/2019
کوئٹہ یکم مئی :۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ حکومتوں کا کام صرف چند سڑکیں اور عمارتیں بنانا یا چند لوگوں کو روزگار فراہم کرنانہیں ہوتا بلکہ حکومتیں قانون سازی کے زریعے معاشی نظام کی بہتری اور ترقی کے بنیادی ڈھا نچہ کی تعمیر کرتی ہیں، ہمیں ہر شعبہ زندگی کے امور کی بہتری کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے،اب تک ہم نے جس شعبہ کے امور کا جائزہ لیا ہے قانون سازی کا فقدان نظر آیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم مئی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ سوچتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کیسے جیتنا ہے لیکن نظام کی تبدیلی اور بنیادی ڈھانچہ کی بہتری کی جانب ہماری توجہ کم رہی ہے، صوبے کے مسائل کے حل اور مالی بحران پر قابو پانے کے لیے ہمیں اپنے وسائل اور آمدنی میں اضافہ کرنا ہوگا، مالی بحران سے سرکاری ملازمین زیادہ متاثر ہونگے، لہذا انہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری آمدنی صرف 15ارب روپے ہے جبکہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ 350 ارب روپے کا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال کا حقیقی ترقیاتی بجٹ صرف 35سے 40 ارب روپے ہے، یہ 82 ارب روپے ہر گز نہیں، جو صرف ایک ذہنی اختراع ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے مالی وسائل میں اضافہ نہیں ہوگا تو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات پورے نہیں ہونگے، یا تو ہمیں آمدنی بڑھانی ہے یا اخراجات کو کم کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک کی جانب سے ماضی میں گندم کی خرید کے لیے بینکوں سے لیے گئے قرضوں پر ہمیں 90 کروڑ روپے سود دینا پڑتا ہے ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے وسائل عوام کے ہیں اور حکومت امانت کا ذریعہ ہے یہ وسائل عوام پر صحیح معنوں میں خرچ ہونگے تو فائدہ پہنچے گا، فنڈز کا صحیح استعمال نہ ہونے سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں نا تو انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات ملتی ہیں اور نا ہی روزگار میسر آتا ہے اور بے روزگاری میں اضافہ سے امن و امان کی صورت حال اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں بہتر مالی نظم و نسق کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہم اپنی آمدنی کو 30 سے 35 ارب روپے تک لے جا سکتے ہیں، مالی وسائل ہونگے تو ہسپتال اور سکول بھی بنیں گے اور روزگار کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کرنے کا طریقہ کار بہتر کرنا آسان کام نہیں لیکن اسے ہم نے ہی ٹھیک کرنا ہے، باہر سے کوئی نہیں آئے گا، ہم اپنی کوتاہیوں کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈال سکتے،ماضی میں یا تو ترقیاتی فنڈز منصوبوں پر لگائے ہی نہیں گئے اور اگر فنڈز لگے بھی تو ان کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام شعبوں میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے صرف ترجیحات ٹھیک ہونی چاہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آنے والے دور میں سی پیک اور دیگر منصوبوںمیں روزگار ، قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد ملے گا جس کے لیے سکل ڈویلپمنٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مزدوروں اور محنت کشوں کے مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات پر یقین رکھتی ہے موجودہ حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کے مزدوروں اور محنت کشوں کو سہولیات اور تحفظ فراہم کر کے معاشی ،اقتصادی اور صنعتی ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مزدور اور محنت کش ملک کی معاشی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت محکمہ محنت و افرادی قوت کے امور کی بہتری کے لیے موثر قانون سازی کر رہی ہے اور ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جو مزدوروں اور محنت کشوں کے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے صوبے میں زراعت، مائنز،صنعت اور ماہی گیری کے شعبوں میں ترقی اور بہتری کی گنجائش موجود ہے ہم پی ایس ڈی پی میں ایسے تمام شعبوں کو بھی ترجیح دے رہے ہیںجو پچھلے ادوار میں یکسر نظر انداز کر دئیے گئے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں انفرادی ترجیحات پر مبنی منصوبے بھی پی ایس ڈی پی کا حصہ بنائے گئے چند ایک اضلاع میں بہت زیادہ فنڈز کا استعمال کیا گیا جبکہ زیادہ تر اضلاع یکسر نظر انداز کر دیے گئے اور جو فنڈز لگائے بھی گئے وہ مفید ثابت نہیں ہوئے حکومت وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی کو پورے صوبے میں لے جا رہی ہے ،ہماری کوشش ہے کہ ہر ضلع میں کام کیا جائے جس کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو ں گے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماہی گیری ، کان کنی، زراعت ، افرادی قوت کے شعبوں میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے تاکہ یہ شعبہ بھی صوبے کی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں، بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں محنت کشوں اور مزدوروں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جن کے لئے یقینا ایک مو¿ثر قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ ان کے مسائل باآسانی حل ہوں اس کے ساتھ ساتھ صنعت کے شعبے سے وابستہ مزدوروں اور محنت کشوں کے مفادات ، تحفظ کو بھی حکومت یقینی بنائے گی ، انہوںنے کہا کہ حکومت بہتر مالی نظم و نسق پر بھی یقین رکھتی ہے جس سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے، جس سے یقینا امن وامان کی صورت حال میں بھی بہتری آئے گی ، ہم تعلیم کے شعبے کو بھی مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور تحقیق جیسے شعبہ میں بھی ایک منظم اور با عمل کام ہوگا حکومت یقینا مالی ترقی کی افادیت سے آگاہ ہے اس میں محنت کشوں اور مزدوروں کا کردار بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ تقریب سے آئی ایل او کی کنٹری ڈائریکٹر انگرڈ کرسٹینسن (Ingrid Christensen) اور محنت کشوں کی تنظیموں کے عہدیداروں نے بھی خطاب کیا اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے تجاویز پیش کیں۔ تقریب میں سیکرٹری محنت و افرادی قوت سیکرٹری مائنز اور سیکرٹری صنعت بھی موجود تھے، بعد ازاں وزیراعلیٰ نے محکمہ محنت و افرادی قوت کے افسران اور اہلکاروںمیں شاندار کارکردگی پر شیلڈ تقسیم کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1556/2019
کوئٹہ یکم مئی :۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صد ار ت صوبائی کابینہ کا اجلاس آج بروز جمعرات وزیر اعلیٰ سیکر ٹریٹ میں منعقد ہو گا۔اجلا س کے ایجنڈامیں دیگراہم امور کے علاوہ کوئٹہ میں سیکیورٹی ڈو یژن کے قیام ،زیارت ویلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل 2019،بلوچستان ہاﺅسنگ اتھارٹی بل2019،ریسکیو1122سروس،گرین پاکستان پروگرام کی بہتری اور کوئٹہ میں وفاقی عدالتوں کے قیام کی منظوری بھی شامل ہے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1557/2019
تربت یکم مئی :۔ گزشتہ روز گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت میں سالانہ کھیلوں کا فسٹول “سپورٹس گالا کیچ 2019” اختتام پذیر ہوا۔اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نذیر احمد لانگو تھے جبکہ دیگر مہمان گرامی میں ڈپٹی کمشنر کیچ ذیشان سکیندر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر میر حسین، اسسٹنٹ کمشنر تربت خرم خالد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج کریم، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اختر ایاز،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل زمرد واحد، سابقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل۔ حاجرہ قیوم شامل تھیں۔اختتامی تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اسکے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا جس کے اعزاز میں شرکاءنے کھڑے ہوکر وطن عزیز سے اپنی محبت کا اظہارکیا۔بعد ازاں رسہ کشی کے مقابلوں کا فائنل منعقد ہوا جس میں مرد اور خواتین کی ٹیمیں شامل تھیں۔رسہ کشی کے مردوں کے فائنل میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کہدہ یوسف بازار آبسر نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول چاہ سر کو شکست دے کر فائنل جیت لی جبکہ خواتین کیطرف گورنمنٹ گرلز سکول گنہ نے گورنمنٹ گرلز سکول گوگدان کو شکست دے کر فائنل اپنے نام کرلی۔اسکے بعد خواتین کے میوزیکل چیئر کے مقابلوں کا انعقاد ہوا جسمیں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول چاہ سر کی طالبہ سمیرہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دریں اثناءتقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نذیر احمد لانگو نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ اور محکمہ تعلیم مبارک باد کے مستحق ہیں جنکی کوششوں سے اس طرح کے کامیاب اسپورٹس گالا کا انعقاد ممکن بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے جسمیں انکو اپنے جسمانی نشونما کے علاوہ انہیں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بھی موقع ملےگا انہوں نے کہا کہ ہمارے طلباءاور طالبات میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیںلیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انکو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار اچھے طریقے سے کرسکیں۔اس دوران تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ ذیشان سکیندر نے محکمہ تعلیم کے اہلکاروں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ کہ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار اداکیا۔ جسکے لئے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں انہوں نے طلباءاور طالبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ حصول تعلیم کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ کھیل کود اور تفریحی پروگراموں میں شرکت کرنے سے مستقبل میں آپکے کیریئر پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہونگے کیونکہ ایک صحتمند ذہن کیلئے ایک صحتمند جسم کا ہونا ضروری ہے۔ تقریب کے آخر میں ونر اور رنر اپ کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور دیگر انعامات تقسیم کیے گئے جبکہ تقریب میں شرکت کرنے والے مہمان گرامیوں میں شیلڈ بھی پیش کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1558/2019
کوئٹہ یکم مئی :۔ بلوچستان ایڈیٹرز فورم کی جانب سے سابق ڈی جی پی آر محمد نعیم بازئی اورنئے تعینات ہونیوالے ڈی جی پی آر بلوچستان شاہ عرفان غرشین کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں مقامی اخباری صنعت سے وابستہ ایڈیٹران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر سابق ڈائریکٹر جنرل نظامت اعلیٰ تعلقات عامہ بلوچستان محمد نعیم بازئی نے کہا کہ انہوں نے پریس و صوبائی حکومت کے مابین خوشگوار ماحول پروان چڑھانے،مقامی اخباری صنعت کے فروغ کیلئے حتی الوسع کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اخبارات و جرائد کا صوبائی و ملکی ترقی و خوشحالی،عوامی ،معاشرتی مسائل اجاگر کرنے میں انتہائی کلیدی کردار رہا ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ اس موقع پر نئے تعینات ہونےوالے ڈی جی پی آر بلوچستان شاہ عرفان غرشین نے کہا کہ وہ بلوچستان کے واحد اخباری صنعت کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریںگے۔انہوں نے مزید کہا کہ اخبارات و جرائد سے منسلک ایڈیٹران حکومتی کارکردگی اور صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اقدامات کی تشہیر کیلئے اپنا مو ثر کردار ادا کریں۔ شاہ عرفان غرشین نے مزید کہا کہ وہ مقامی اخباری صنعت کو فروغ دینے کیلئے مزید بہتر اقدامات کریں گے۔ اس موقع پر بلوچستان ایڈیٹرز فورم کی ایگزیکٹیو باڈی نے محمد نعیم بازئی اور شاہ عرفان غرشین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محمد نعیم بازئی کی جانب سے مقامی اخباری صنعت کے فروغ کیلئے اٹھائے جانیوالے مثبت اقدامات تاریخ کا سنہرا باب کہلائیگا اور ہم توقع کرتے ہیں کہ شاہ عرفان غرشین مقامی اخباری صنعت کو تقویت اور شفافیت کے عمل کو برقرار رکھنے میں اپنا مثبت و مو ثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ظہرانے میں ملک نعیم کاکڑ،نیاز کاکڑ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment